ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک بجٹ محض رسمی، ترقی پرور نہیں: رحمن خان

کرناٹک بجٹ محض رسمی، ترقی پرور نہیں: رحمن خان

Tue, 09 Mar 2021 11:17:37    S.O. News Service

بنگلور،9؍مارچ (ایس او  نیوز)وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے سال 2021-22کیلئے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ ایک ترقی پرور بجٹ نہیں بلکہ اس سے ریاست کی مالی حالت کس قدر خستہ ہے وہ عوام پر ظاہر ہو چکا ہے۔ بجٹ کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہو تاہے کہ ریاست کی مالی حالت دیوالیہ ہو چکی ہے اورپورا دارومدار قرضوں کی بنیاد پر ہی ہے۔

سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس رہنما ڈاکٹر کے رحمن خان نے ریاستی بجٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ کورونا وائر س کے سبب جو بحران پیدا ہوا اس سے ریاست کے مالی وسائل میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر ریاست کو معاشی ترقی کی جانب لے جانا چاہتی ہے تو اسے رقم صرف کرنے کی طرف توجہ دینی ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس بجٹ میں محصولات کو بڑھانے کا کوئی نظم موجود نہیں ہے اورقرضے لے کر ان سے قرضے چکانے پر توجہ دی گئی ہے اس سے معاشی حالت میں اور زیادہ بگاڑ پیدا ہونے والا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں ایسا کوئی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ہے جس کو نیا قرار دیا جاسکے۔شہر میں باہری رنگ روڈ کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ اعلان گزشتہ دو تین بجٹوں سے ہو تا آرہا ہے۔ بیشتر بڑے پروجیکٹ گزشتہ سال بھی بجٹ کا حصہ رہے اور اس سال بھی ہیں اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ ان پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور اس بات کا یقین بھی نہیں کہ رواں سال ان پر کوئی پیش رفت ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں جس مالی خسارے کی نشاندہی کی گئی ہے اس کو کم کرنے کیلئے حکومت کو آمدنی کے وسائل بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے تھی ایسا کرنے کی بجائے صرف اعداد وشمار کے کھیل میں الجھانے کی کوشش ہو ئی ہے اقلیتوں کو بجٹ میں 1500کروڑ روپے دینے کے وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی اتنی بڑی آبادی کیلئے یہ رقم ناکافی ہے۔ سدارامیا حکومت کے دورمیں اقلیتی بجٹ 3000کروڑ روپے سے زیادہ دیا گیا تھا۔

گزشتہ سال ایڈی یورپا حکومت نے اقلیتوں کو 1300کروڑ روپیوں کا بجٹ دیا تھا لیکن اس میں سے کتنی رقم صرف ہو سکی اس کا حساب لگایا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ صرف 680کروڑ روپے صرف ہوئے ہیں جو 50فیصد ہی ہے۔ ایسے میں اس حکومت سے اگلے سال بھی پوری رقم صرف ہونے کی امید رکھنا فضول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بجٹ میں اگراتنی بڑی رقم صرف کئے بغیر رہ گئی ہے تو اس کے لئے کون ذمہ دار ہے اس کی نشاندہی کر نی ہو گی۔


Share: